Follow us:
+(92) 333 3590682

ماں باپ کی نافرمانی کی سزا دنیاہی میں ملے گی

ماں باپ کی نافرمانی کی سزا دنیاہی میں ملے گی

اگروالدین کی نافرمانی کی جاوے ،تو دنیا میں اس کا انجام برا ہونے لگتاہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلماگروالدین کی نافرمانی کی جاوے ،تو دنیا میں اس کا انجام برا ہونے لگتاہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میں انسان جتنے بھی گناہ کرتاہے، سب کی سزا مرنے کے بعد قیامت کے دن ملے گی،کوئی گناہ کرے، آدمی کتنا بھی بڑاگناہ کرے دنیا کے اندر، اس کی سزا اللہ نے کب کے لیے رکھی ہے ؟قیامت کے دن کے لیے ،جب حساب کتاب ہوگا، تووہاں پر اس کا فیصلہ ہوناہے،وہاں پرسب کواپنی کرتوت کابدلہ ملے گا، لیکن کان کھول کر سن لیجئے، جس نے والدین کے ساتھ نافرمانی کامعاملہ کیا، اللہ اس کو سزا نقددے گا، دنیا کے اندرہی دے گا، نمازنہیں پڑھی، زکوۃ نہیں دی ،حج نہیں کیا،زناکیا، چوری کی، جتنے بھی گناہ کئے، سب کی سزا اللہ نے وہاں کے لیے رکھی ہے، وہیں ملے گی؛لیکن اگر کسی نے ماں باپ کے ساتھ نافرمانی کامعاملہ کیا،ماں باپ کوستایا ،ماں باپ پرظلم کیا تومرنے سے پہلے اس دنیا کے اندر اس کوسزا ملے گی

ماں کی نافرمانی کی وجہ سے کلمہ طیبہ کا زبان سے نہ نکلنا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ایک بات آپ کو سنادوں ، ایک صحابی نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا ا نتقال ہونے لگا توان سے کلمہ نہیں پڑھا جارہاہے، خیر کے زمانہ کی بات بتلارہاہوں ،خوداللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ،اس زمانہ کی بات بتلارہاہوں ،موت کے وقت لوگ ان کو کلمہ کی تلقین کرتے ہیں ،مگر وہ کہہ رہے، کلمہ نہیں پڑھا جارہاہے، کچھ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں آدمی کا انتقال ہونے جارہاہے ، نزع کی حالت میں ہے، اوراس کو کلمہ کی تلقین کرتے ہیں ، مگر وہ کلمہ نہیں پڑھ پارہاہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ وہ نماز پڑھتاہے، توانہوں نے کہا یا رسول اللہ وہ نمازتوپڑھتا ہے ، توحضور صلی اللہ علیہ وسلم فوراً صحابہ کو لے کر چل دئے، اس کے گھر جاکر پوچھا کہ کلمہ کیوں نہیں پڑھ رہے ہو، تواس نے کہا یارسول اللہ میں کلمہ نہیں پڑھ سکتا، اتنی بات انہوں نے نزع کی حالت میں کہہ دی، حضور نے پوچھا کہ ان کی والدہ زندہ ہیں ؟ لوگوں نے کہاہاں والدہ زندہ ہیں ،ان کی والدہ کو بلایاگیا، ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بیٹے کی یہ حالت ہے اورکلمہ نہیں پڑھ رہاہے، کیابات ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتاتھا، اس نے نمازمیں کبھی کمی نہیں کی، روزے میں کبھی کمی نہیں کی، عبادت میں کبھی کمی نہیں کی ، سب خیر کے کام کرتا تھا، مگر ماں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتاتھا ، آپ کان کھول کر سن لیں ، اگر ماں نصیحت کرے ،ماں تو ماں ہے، اباابا ہیں ، ان کااحترام لازم ہے، خیر القرون کی بات ہے کہ کلمہ ادانہیں ہورہاہے ، اوروہ معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ دیکھو یہ تمہارا بیٹاہے کیاتم یہ پسند کروگی کہ میں لکڑیاں اکٹھا کراؤں ، اوراس میں آگ جلادی جائے، اورتمہارے بیٹے کو اس میں ڈال دیا جائے، اس نے کہا کہ نہیں یہ تو میں ہرگز پسند نہیں کروں گی ، حضور نے فرمایا کہ یہ آخرت کی آگ اس سے زیادہ خطرناک ہے اور آخرت کی آگ سے تمہاری سفارش اور معاف کرنے سے بچ سکتاہے، اس نے کہابالکل میں معاف کروں گی، مجھ کو اللہ کے سامنے گواہ بناؤکہ میں نے اس کومعاف کردیا ، اس دنیا کی آگ توبراشت نہ کرسکی کہ میرا بچہ اس میں جلے تو جہنم کی آگ میں جلنے کے لیے کیسے تیارہوسکتی تھی، تواس نے معاف کردیا، جیسے ہی اس نے معاف کیافوراً انہوں نے کلمہ ’’لاالہ اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ پڑھا اور انتقال ہوگیا، اگر والدین کے ساتھ میں نافرمانی کا معاملہ کریں گے ، والدین کو ستائیں گے ، پھر ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم دنیامیں کامیاب ہوں اور آخرت میں کامیاب ہوں ، اس لیے دعاکریں کہ اللہ تبارک وتعالی ہمیں اپنے والدین کے ساتھ احترام کا معاملہ کرنیکی توفیق عطا فرمادے اور ان کے ساتھ اچھی طریقہ سے، محبت کے ساتھ، زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمادے۔

Share This: